صحیح بخاری حدیث ۸۲۷ - تشہد میں بیٹھنے کی سنت
تشہد میں بیٹھنے کا سنت طریقہ
صحیح بخاری : ۸۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۲۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَتَرَبَّعُ فِي الصَّلَاةِ إِذَا جَلَسَ فَفَعَلْتُهُ ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ فَنَهَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَقَالَ : " إِنَّمَا سُنَّةُ الصَّلَاةِ أَنْ تَنْصِبَ رِجْلَكَ الْيُمْنَى وَتَثْنِيَ الْيُسْرَى ، فَقُلْتُ : إِنَّكَ تَفْعَلُ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّ رِجْلَيَّ لَا تَحْمِلَانِي " .
عبداللہ بن عبداللہ روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہ ہمیشہ دیکھتے کہ آپ نماز میں چارزانو بیٹھتے ہیں میں ابھی نوعمر تھا میں نے بھی اسی طرح کرنا شروع کر دیا لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے روکا اور فرمایا کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ (تشہد میں) دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بایاں پھیلادے میں نے کہا کہ آپ تو اسی (میری) طرح کرتے ہیں آپ بولے کہ (کمزوری کی وجہ سے) میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں تشہد میں بیٹھنے کے طریقے کا ذکر ہے۔ عبداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نماز میں چار زانو بیٹھتے دیکھتے تھے، اس لیے کم عمری میں انہوں نے بھی ایسا کرنا شروع کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں روکا اور بتایا کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا رکھا جائے اور بایاں پاؤں پھیلا دیا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ خود چار زانو بیٹھتے ہیں، تو انہوں نے وجہ بتائی کہ میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔ اس حدیث میں تشہد کا طریقہ، نماز میں بیٹھنا، اور مجبوری کی وجہ سے عمل میں فرق کا ذکر موجود ہے۔ اس سے بات صاف ہے کہ اصل سنت الگ ہے، اور کمزوری کی حالت الگ سبب بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تشہد میں دایاں پاؤں کھڑا اور بایاں پاؤں بچھانا سنت بتایا گیا۔
- کسی بڑے کو دیکھ کر عمل کرنے سے پہلے اس کی وجہ سمجھنا بہتر ہے۔
- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی مجبوری کی وضاحت کی۔
- نماز کی سنت اور عذر کی حالت میں فرق اس روایت سے سمجھ آتا ہے۔
