صحیح بخاری حدیث ۹۵۱ - عید الاضحیٰ کی نماز اور قربانی کی سنت
عید الاضحیٰ کی قربانی: پہلے نماز، پھر قربانی
صحیح بخاری : ۹۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۵۱
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ مِنْ يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ ، فَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا " .
براء بن عازب روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلا کام جو ہم آج کے دن (عید الاضحیٰ) میں کرتے ہیں، یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہمارے طریق پر چلا۔
صحیح بخاری حدیث ۹۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عید الاضحیٰ کی قربانی اور عید کی نماز کا درست ترتیب ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے صاف فرمایا کہ اس دن ہمارا پہلا کام نماز پڑھنا ہے، پھر واپس آ کر قربانی کرنا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید الاضحیٰ کی قربانی کو نماز عید کے بعد کرنا ہی سنت طریقہ ہے۔ جو شخص اس ترتیب پر عمل کرتا ہے، وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتا ہے۔ اس حدیث میں بات بہت سادہ ہے: عبادت میں اپنی مرضی سے ترتیب بدلنے کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی سنت کو سامنے رکھا جائے۔ عید کی نماز، قربانی کا وقت، اور نماز کے بعد قربانی جیسے مسائل میں یہی بنیادی رہنمائی اس روایت سے ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید الاضحیٰ کے دن سب سے پہلے عید کی نماز ادا کی جائے۔
- قربانی نماز عید کے بعد کی جائے، یہی اس حدیث میں بیان کردہ سنت ہے۔
- عبادت کے کاموں میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی ترتیب کو اختیار کرنا چاہیے۔
- سنت پر عمل صرف نیت سے نہیں، درست طریقے اور ترتیب سے بھی جڑا ہوا ہے۔
