سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۵ - عمرؓ کے ذریعے اسلام کی عزت
اے اللہ! اسلام کو عمرؓ کے ذریعے عزت دے
سنن ابن ماجہ : ۱۰۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسلام کو خاص طور پر عمر بن خطاب کے ذریعے عزت و طاقت عطا فرما۔ اس روایت کا بنیادی موضوع حضرت عمر کی فضیلت اور اسلام کی قوت ہے۔ حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا صاف الفاظ میں موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کا دین کے لیے خاص کردار مراد لیا گیا۔ یہاں کسی لمبی تاریخی تفصیل کی ضرورت نہیں، کیونکہ حدیث کا پیغام خود واضح ہے: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عمر بن خطابؓ کے ذریعے اسلام کی عزت کی دعا کی۔ اس لیے یہ حدیث عمر بن خطاب کی فضیلت، اسلام کی عزت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا کے موضوع پر بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسلام کی عزت کے لیے دعا فرمائی۔
- حضرت عمرؓ کا نام اس دعا میں خاص طور پر لیا گیا۔
- دین کی قوت اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہے۔
