سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۴ - عمرؓ کی قیامت والی فضیلت
حضرت عمرؓ کا قیامت کے دن خاص اعزاز
سنن ابن ماجہ : ۱۰۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ".
ابی بن کعب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت عمرؓ کے بارے میں فرمایا کہ قیامت کے دن حق تعالیٰ سب سے پہلے عمر سے مصافحہ کریں گے، سب سے پہلے انہیں سلام کریں گے، اور ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے۔ اس حدیث کا موضوع حضرت عمر کی فضیلت ہے۔ اس میں حضرت عمرؓ کے لیے ایک خاص اعزاز کا ذکر ہے، جو حدیث کے الفاظ کے مطابق قیامت اور جنت سے متعلق ہے۔ قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس روایت میں حضرت عمرؓ کی شان کو بہت نمایاں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس کو ادب کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور حدیث کے الفاظ سے آگے اپنی طرف سے بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عمرؓ کے لیے حدیث میں خاص اعزاز کا ذکر ہے۔
- قیامت اور جنت کے معاملے میں ان کی فضیلت بیان ہوئی۔
- صحابہؓ کے مقام کو ادب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
