سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۳ - عمرؓ کے اسلام پر خوشی

حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کی فضیلت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۳

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ ، نَزَلَ جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : " يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا: اے محمد! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ نے اسلام قبول کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا کہ اے محمد صلى الله عليه وسلم! عمر کے اسلام قبول کرنے سے آسمان والے خوش ہوئے۔ اس روایت کا بنیادی موضوع حضرت عمر کی فضیلت اور قبولِ اسلام ہے۔ حدیث کے الفاظ میں حضرت عمرؓ کے اسلام کو خوشی کا سبب بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اسلام لانا ایک اہم بات تھی، جس کا ذکر آسمان والوں کی خوشی کے ساتھ آیا۔ اس تشریح میں ہم صرف اسی بات کو بیان کرتے ہیں جو حدیث میں ہے، یعنی عمر بن خطاب کے قبول اسلام پر خوشی اور ان کی خاص قدر۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت عمرؓ کا قبولِ اسلام ایک خوشی کا موقع تھا۔
  • جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اس خوشی کی خبر دی گئی۔
  • نیک لوگوں کے دین قبول کرنے سے اہل ایمان کو خوشی ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں