سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۲ - صحابہ کرام کی محبت

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے محبوب صحابہ کون تھے؟

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " أَيُّ أَصْحَابِهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ ؟ ، قَالَتْ : أَبُو بَكْرٍ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ : عُمَرُ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيُّهُمْ ، قَالَتْ : أَبُو عُبَيْدَةَ " .

عبداللہ بن شقیق روایت:

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: ابوعبیدہ۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۲ کا خلاصہ

اس روایت میں حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے صحابہ میں آپ صلى الله عليه وسلم کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا؟ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کا نام لیا، پھر حضرت عمرؓ کا، پھر حضرت ابو عبیدہؓ کا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع فضائلِ صحابہ ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے قریبی صحابہ میں یہ تین بزرگ خاص مقام رکھتے تھے۔ یہ بیان بہت سادہ ہے اور اسی حد تک رہتا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت کے لحاظ سے ان ناموں کو ذکر کیا۔ اس لیے حضرت ابوبکر کی فضیلت، حضرت عمر کی فضیلت اور ابو عبیدہ بن جراح کی فضیلت جیسے موضوعات کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت ابوبکرؓ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے محبوب صحابہ میں سب سے نمایاں تھے۔
  • حضرت عمرؓ کا مقام بھی بہت بلند ذکر ہوا۔
  • حضرت ابو عبیدہؓ بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے محبوب صحابہ میں شامل تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں