سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۱ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی محبوب ہستیاں

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نزدیک محبوب ترین کون تھے؟

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۱

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " عَائِشَةُ " ، قِيلَ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : " أَبُوهَا " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا: مردوں میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے والد (ابوبکر)“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع محبتِ صحابہ اور اہلِ بیت سے تعلق رکھتا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: عائشہ۔ پھر پوچھا گیا کہ مردوں میں کون؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ان کے والد، یعنی حضرت ابوبکرؓ۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے دل میں حضرت عائشہؓ اور حضرت ابوبکرؓ کا خاص مقام تھا۔ اس میں محبت، عزت اور قرب کا صاف بیان ہے۔ عام قاری کے لیے یہ حدیث رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پسندیدہ شخصیات، حضرت عائشہ کی فضیلت اور حضرت ابوبکر کی فضیلت کو سمجھنے کا آسان ذریعہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے نزدیک حضرت عائشہؓ کو خاص محبت حاصل تھی۔
  • مردوں میں حضرت ابوبکرؓ کا مقام بہت بلند بتایا گیا۔
  • صحابہؓ کے فضائل کو محبت اور ادب کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں