سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۲ - اذان اور اقامت کے درمیان نماز
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نفل نماز کی ترغیب
سنن ابن ماجہ : ۱۱۶۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ " ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " لِمَنْ شَاءَ " .
عبداللہ بن مغفل روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: ”اس کے لیے جو چاہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی تاکہ لوگوں کو نفل عبادت کی طرف رغبت ہو۔ آخری مرتبہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ اس کے لیے ہے جو چاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض نمازوں کے اوقات کے درمیان بھی انسان نفل عبادت کر سکتا ہے۔ یہ عمل اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتا ہے اور بندے کو اضافی اجر حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور اقامت کے درمیان نفل نماز جائز ہے
- نفل عبادت میں آسانی اور اختیار رکھا گیا ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم امت کو عبادت کی ترغیب دیتے تھے
