سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۳ - مغرب سے پہلے دو رکعت

مغرب سے پہلے دو رکعت نفل ادا کرنے کی سنت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگ مغرب کی اذان کے بعد دو رکعت نفل نماز ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات لگتا تھا کہ شاید اقامت ہو گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب سے پہلے نفل نماز کا اہتمام صحابہ کرام میں موجود تھا اور یہ عبادت کے شوق کی علامت تھی۔ یہ عمل اللہ کے قرب اور نفل عبادت کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب سے پہلے دو رکعت نفل ادا کرنا جائز ہے
  • صحابہ کرام عبادت میں بہت جلدی کرتے تھے
  • نفل عبادت کا شوق ایمان کی علامت ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں