سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۴ - مغرب کے بعد دو رکعت سنت

مغرب کے بعد دو رکعت سنت نماز کی اہمیت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۴

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم مغرب کی نماز کے بعد گھر آ کر دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کے بعد دو رکعت سنت نبی صلى الله عليه وسلم کا مستقل عمل تھا۔ یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ فرض نماز کے بعد بھی نفل عبادت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مغرب کے بعد دو رکعت سنت نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے
  • گھر میں نفل نماز پڑھنا بھی افضل ہے
  • فرض نماز کے بعد نفل عبادت جاری رکھنا بہتر ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں