سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۸ - وتر نماز کی اہمیت
وتر نماز کی اہمیت اور اس کا وقت
سنن ابن ماجہ : ۱۱۶۸
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ " .
خارجہ بن حذافہ عدوی روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں وتر نماز کو ایک خاص نماز بتایا گیا ہے جو عشاء اور فجر کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے اہم عبادت قرار دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کی عبادت میں وتر نماز کو خاص مقام حاصل ہے اور یہ اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر نماز بہت اہم عبادت ہے
- اس کا وقت عشاء اور فجر کے درمیان ہے
- رات کی عبادت میں وتر کو خاص مقام حاصل ہے
