سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۹ - وتر فرض نہیں مگر سنت ہے
وتر نماز فرض نہیں بلکہ سنت ہے
سنن ابن ماجہ : ۱۱۶۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ ، أَوْتِرُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ " .
علی بن ابی طالب روایت:
وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وتر نماز فرض نہیں ہے بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے ادا کیا اور لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر ایک اہم نفل عبادت ہے لیکن فرض نمازوں کی طرح لازم نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر نماز فرض نہیں ہے
- یہ نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت ہے
- عبادت میں نیت اور رغبت اہم ہے
