سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۰ - اللہ طاق ہے وتر پسند کرتا ہے
اللہ طاق ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے
سنن ابن ماجہ : ۱۱۷۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۷۰
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ " ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے، اس لیے وتر نماز ادا کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر نماز کی بنیاد اللہ کی صفت 'الوتر' یعنی یکتا ہونے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ عبادت بندے کو اللہ کی وحدانیت یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ طاق ہے
- وتر نماز کو پسند فرمایا گیا ہے
- اللہ کی صفات پر ایمان مضبوط ہوتا ہے
