سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۱ - وتر میں سورتوں کی تلاوت
وتر نماز میں مخصوص سورتوں کی تلاوت
سنن ابن ماجہ : ۱۱۷۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۷۱
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ طَلْحَةَ ، وَزُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم وتر نماز میں مختلف سورتیں پڑھتے تھے جیسے سورہ اعلیٰ، کافرون اور اخلاص۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر نماز میں قرآن کی تلاوت کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا اور یہ عبادت توحید اور اللہ کی بڑائی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں قرآن کی تلاوت سنت ہے
- توحیدی سورتوں کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے
- عبادت میں ترتیب اور خشوع ضروری ہے
