سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۸۱ - دعا کے آداب اور ہاتھ اٹھانے کا طریقہ

دعا میں ہاتھ اٹھانے اور چہرے پر پھیرنے کا صحیح طریقہ

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۸۱

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ فَادْعُ بِبَاطِنِ كَفَّيْكَ ، وَلَا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا ، فَإِذَا فَرَغْتَ ، فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کر کے دعا کرو، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو، اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں دعا کے آداب بتائے گئے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ سے دعا کرو تو دونوں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ اوپر کی طرف رکھو اور الٹا نہ کرو۔ یہ عمل دعا میں عاجزی اور ادب کو ظاہر کرتا ہے۔ دعا مکمل ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بھی ذکر ہے جو دعا کے اختتام کی علامت ہے۔ اس سے بندے اور رب کے درمیان تعلق میں ادب اور توجہ پیدا ہوتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ دعا صرف الفاظ نہیں بلکہ طریقہ اور انداز بھی اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعا میں ہاتھ سیدھے انداز میں اٹھانا ادب ہے
  • اللہ سے دعا کرتے وقت عاجزی اختیار کرنا چاہیے
  • دعا کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرنا جائز اور ذکر شدہ عمل ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں