سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۸۲ - قنوت وتر رکوع سے پہلے
وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھنے کی سنت
سنن ابن ماجہ : ۱۱۸۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۸۲
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُوتِرُ ، فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ " .
ابی بن کعب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں وتر نماز کے طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم وتر ادا کرتے ہوئے رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قنوت دعا نماز کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے مخصوص طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام بھی اسی طریقے پر عمل کرتے تھے۔ یہ حدیث ہمیں عبادت میں سنت کی پیروی اور ترتیب سکھاتی ہے تاکہ نماز مکمل اور درست ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھنا جائز ہے
- نماز میں سنت طریقے کی پیروی ضروری ہے
- صحابہ کرام بھی نبی صلى الله عليه وسلم کے طریقے پر عمل کرتے تھے
