سنن ابن ماجہ حدیث ۱۲۱۱ - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
سنن ابن ماجہ : ۱۲۱۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۲۱۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : كَتَبَ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا يَدْرِي أَزَادَ أَوْ نَقَصَ ، فَسَأَلَ ، فَحَدَّثْنَاهُ ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي الصَّلَاةِ ، فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ ، فَيُتِمَّ عَلَيْهِ ، وَيُسَلِّمَ ، وَيَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے“۔
