حدیث ۱۳۷۱
سنن ابن ماجہ : ۱۳۷۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۷۱
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟ " ، قَالُوا لِزَيْنَبَ : تُصَلِّي فِيهِ ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ ، فَقَالَ : " حُلُّوهُ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی، پوچھا ”یہ رسی کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: زینب کی ہے، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھول دو، اسے کھول دو، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے“ ۱؎۔
