سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۸۸ - شعبان کی رات کی عبادت
نصف شعبان کی رات اور اللہ کی مغفرت
سنن ابن ماجہ : ۱۳۸۸
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۸۸
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَقُومُوا لَيْلَهَا ، وَصُومُوا يَوْمَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : " أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ ، أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ ، أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ " ، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ .
علی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نصف شعبان کی رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس رات کو عبادت میں گزارا جائے اور اگلے دن روزہ رکھا جائے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور مغفرت طلب کرنے والوں کو معاف فرماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاص اوقات میں عبادت کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ بندہ جب اس رات اللہ سے معافی مانگتا ہے تو اللہ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خاص راتوں میں عبادت کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے
- استغفار کرنے سے اللہ کی رحمت حاصل ہوتی ہے
- روزہ اور عبادت روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں
