سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۱ - خوشخبری پر نماز

خوشی کے موقع پر شکر کی نماز

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۹۱

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي شَعْثَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى يَوْمَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ رَكْعَتَيْنِ " .

عبداللہ بن ابی اوفی روایت:

جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جب نبی صلى الله عليه وسلم کو کسی خوشخبری کی اطلاع ملی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کے موقع پر اللہ کا شکر ادا کرنا سنت ہے۔ نماز کے ذریعے انسان اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کی نعمتوں کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر خوشی کو اللہ کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خوشی کے وقت شکر ادا کرنا چاہیے
  • نماز شکر کا بہترین ذریعہ ہے
  • نعمتوں کو اللہ کی طرف منسوب کرنا چاہیے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں