سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۲ - سجدہ شکر کی اہمیت

سجدہ شکر اور اللہ کا احسان ماننا

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۹۲

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُشِّرَ بِحَاجَةٍ ، فَخَرَّ سَاجِدًا " .

انس بن مالک روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جب نبی صلى الله عليه وسلم کو کسی خوش کن بات کی خبر ملتی تو آپ صلى الله عليه وسلم فوراً سجدہ شکر ادا کرتے۔ یہ عمل اللہ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ سجدہ شکر انسان کے دل کو عاجزی اور اللہ کی محبت سے بھر دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خوشی پر سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے
  • اللہ کی نعمتوں کا شکر ضروری ہے
  • عاجزی ایمان کو مضبوط کرتی ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں