سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۱ - پانچ نمازوں کی اہمیت

پانچ نمازوں کی حفاظت اور جنت کا وعدہ

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۰۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ الْمُخْدِجِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ " .

عبادہ بن صامت روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے“ ۱؎۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں پانچ وقت کی نمازوں کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ جو شخص ان نمازوں کو ادا کرے اور ان کے حقوق کو ضائع نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ لیکن جو ان کو معمولی سمجھے اور غفلت کرے تو وہ خطرے میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز دین کا بنیادی ستون ہے اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پانچ نمازیں دین کا بنیادی حصہ ہیں
  • نماز کی پابندی جنت کا سبب ہے
  • نماز میں غفلت نقصان کا باعث ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں