سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۲ - اسلام کے بنیادی فرائض کی وضاحت
اسلام کے بنیادی فرائض اور سادہ سوال کرنے والا صحابی
سنن ابن ماجہ : ۱۴۰۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۰۲
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : " بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ عَقَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، قَالَ : فَقَالُوا : هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَبْتُكَ ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَلَا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ ، فَقَالَ : سَلْ مَا بَدَا لَكَ ، قَالَ لَهُ الرَّجُلُ : نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا ، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي " ، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ .
انس بن مالک روایت:
ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی“، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو چاہو پوچھو“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اللہ! ہاں“، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے جو نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آ کر بڑے صاف اور سیدھے انداز میں اسلام کے بنیادی سوال کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کے لیے نبی بنایا ہے، کیا پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے، کیا رمضان کے روزے فرض ہیں، اور کیا زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم ہر سوال کا سادہ جواب دیتے ہیں کہ ہاں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے بنیادی فرائض واضح اور آسان ہیں۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے احکام دین کی بنیاد ہیں جن پر عمل ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ حدیث ایمان، عمل اور سادگی کے ساتھ دین سمجھنے کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کے بنیادی فرائض واضح اور آسان ہیں
- نماز، روزہ اور زکوٰۃ دین کے اہم ستون ہیں
- دین کو سادہ اور صاف انداز میں سمجھنا چاہیے
