سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۵ - منبر نبوی کا معجزہ
منبر نبوی اور تنے کا رونا
سنن ابن ماجہ : ۱۴۱۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۱۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَنَّ الْجِذْعُ ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ ، فَسَكَنَ ، فَقَالَ : لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
انس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی کھجور کے تنے کے رونے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم منبر پر چڑھے تو وہ تنا رونے لگا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے گود میں لیا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس سے نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت اور مخلوق کے ساتھ تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کو مضبوط کرنے والا ہے اور نبی صلى الله عليه وسلم کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم رحمت للعالمین ہیں
- مخلوق بھی اللہ کے حکم سے اثر دکھا سکتی ہے
- نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت دلوں کو سکون دیتی ہے
