صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۴ - عصر کے بعد غروب سے پہلے وقت
عصر کے بعد غروب سے پہلے اونٹ ذبح ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۴
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّحَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ ، وَانْطَلَقْنَا مَعَه ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِّعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " ، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
سیدنا انس روایت:
ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر جب فارغ ہوچکے تو بنی سلمہ کا ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! ہم اپنا ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور آرزو رکھتے ہیں کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے اور اونٹ ابھی ذبح نہیں ہوا تھا، پھر وہ ذبح ہوا اور کاٹا گیا اور پکایا اور ہم نے اس میں سے آفتاب غروب ہونے سے پہلے کھایا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عصر کی نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ وہ اپنا اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ پھر آپ گئے اور صحابہ بھی ساتھ گئے۔ وہاں اونٹ ابھی ذبح نہیں ہوا تھا، پھر اسے ذبح کیا گیا، کاٹا گیا، پکایا گیا، اور سب نے غروب آفتاب سے پہلے کھایا۔ یہ روایت عصر کی نماز کے وقت کو عملی طور پر واضح کرتی ہے کہ عصر کے بعد بھی کافی وقت باقی تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز کے بعد غروب سے پہلے کافی وقت باقی رہتا تھا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی دعوت قبول فرماتے تھے۔
- یہ واقعہ عصر کے وقت کو عملی مثال سے سمجھاتا ہے۔
