صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۵ - عصر کے بعد پکا گوشت کھانے کا وقت
عصر کے بعد اونٹ پکنے تک وقت باقی رہنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۴۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا ، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ " ،
سیدنا رافع روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور پھر اونٹ ذبح ہوتا تھا اور اس کے دس حصے تقسیم ہوتے تھے اور وہ پکایا جاتا تھا اور قبل غروب آفتاب کے ہم پختہ گوشت کھا لیتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۵ کا خلاصہ
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے۔ پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، اسے پکایا جاتا، اور غروب آفتاب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھا لیا جاتا۔ یہ حدیث عصر کی نماز کے وقت پر بہت صاف عملی دلیل دیتی ہے۔ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عصر کے بعد صرف چند لمحے نہیں بچتے تھے، بلکہ ذبح، تقسیم، پکانے اور کھانے جتنا وقت باقی ہوتا تھا۔ عصر کی نماز کا وقت اور غروب سے پہلے کا وقفہ اس روایت کا اصل موضوع ہے۔ یہ حدیث وقت پر نماز ادا کرنے کی عادت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کے بعد غروب سے پہلے کافی وقت باقی ہوتا تھا۔
- حدیث میں عصر کے وقت کو روزمرہ عمل سے سمجھایا گیا ہے۔
- نماز کے وقت کی پابندی صحابہ کے معمول میں واضح تھی۔
