صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۷ - عصر کی نماز فوت ہونے کا نقصان

عصر کی نماز فوت ہونے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۷

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کا اہل اور مال ہلاک ہو گیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز فوت ہونے کی سنگینی بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے، گویا اس کا اہل اور مال ہلاک ہو گیا۔ یہ الفاظ عصر کی نماز کی اہمیت کو بہت مضبوط انداز میں سمجھاتے ہیں۔ حدیث میں اصل بات نماز عصر کے ضائع ہونے کے نقصان کی ہے۔ یہاں کسی لمبی تفصیل کے بجائے ایک ایسی تشبیہ دی گئی ہے جس سے آدمی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ عصر کو معمولی نہیں لینا چاہیے۔ عصر کی نماز فوت ہونے کی حدیث ہمیں وقت کی پابندی، نماز کی فکر اور دن کے اہم حصے میں عبادت کی حفاظت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عصر کی نماز فوت ہونا حدیث میں بہت بڑے نقصان کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
  • نماز عصر کی حفاظت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
  • نماز کے وقت کو ضائع کرنا معمولی بات نہیں سمجھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں