صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۰ - نماز وسطیٰ یعنی عصر کی اہمیت

نماز وسطیٰ یعنی عصر سے روکے جانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲۰

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا ، كَمَا حَبَسُونَا وَشَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " .

‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے جیسے انہوں نے روکا ہم کو نماز وسطیٰ (یعنی نماز عصر) سے اور مشغول کر دیا یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۴۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے، جیسے انہوں نے ہمیں نماز وسطیٰ سے روکا اور مشغول رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ روایت کے الفاظ میں نماز وسطیٰ سے مراد نماز عصر بیان ہوئی ہے۔ یہ حدیث عصر کی نماز کی اہمیت کو بہت سخت انداز میں بتاتی ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ دشمنوں کی وجہ سے نماز میں رکاوٹ آئی اور سورج غروب ہو گیا۔ نماز وسطیٰ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عصر کی نماز کا وقت نکل جانا بہت بڑا معاملہ ہے، اس لیے اس کی حفاظت ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز وسطیٰ یعنی عصر کی اہمیت حدیث میں خاص طور پر بیان ہوئی ہے۔
  • نماز سے روکنا اور مشغول کرنا سخت نقصان کا سبب بنا۔
  • عصر کا وقت نکل جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہایت اہم معاملہ تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں