صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۹ - عصر فوت ہونے کی وعید
جس کی عصر فوت ہو گئی: گھر اور مال کے نقصان جیسی مثال
صحیح مسلم : ۱۴۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۹
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ " .
سیدنا سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی نماز عصر فوت ہو گئی گویا کہ اس کا گھر اور مال و متاع تباہ ہو گیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئی، گویا اس کا گھر اور مال و متاع تباہ ہو گیا۔ یہ الفاظ نماز عصر کی اہمیت کو دل میں بٹھا دیتے ہیں۔ انسان اپنے گھر، مال اور سامان کے نقصان کو بہت بڑی تکلیف سمجھتا ہے۔ حدیث اسی احساس کے ذریعے سمجھاتی ہے کہ عصر کی نماز فوت ہونا بھی بہت سنگین معاملہ ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع نماز عصر کی حفاظت ہے۔ عصر فوت ہونے کی حدیث ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دن کے کام، کاروبار یا مصروفیت کے باوجود نماز کا وقت ہاتھ سے نہ نکلے۔ بات سادہ ہے: عصر کی نماز کو ضائع نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عصر کی نماز فوت ہونا بڑی محرومی کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- دنیاوی مصروفیات نماز کے وقت پر غالب نہیں آنی چاہئیں۔
- نماز عصر کی پابندی انسان کے دینی اہتمام کو ظاہر کرتی ہے۔
