صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۸ - عصر کی نماز کا اول وقت
عصر کی نماز کا وقت: سورج بلند رہتے پڑھنا
صحیح مسلم : ۱۴۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۰۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ : فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ .
سیدنا انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اور سورج بلند رہتا تھا اور اس میں گرمی ہوتی تھی اور جانے والا اونچے کناروں تک جاتا تھا اور وہاں پہنچ جاتا تھا اور آفتاب بلند رہتا تھا۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں اونچے کناروں کا ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، اور اس میں گرمی بھی باقی ہوتی تھی۔ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ جانے والا عوالی تک جاتا اور وہاں پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ عصر کی نماز کا وقت سمجھنے کے لیے یہ حدیث بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں نماز کے بعد اتنا وقت باقی رہنے کا ذکر ہے کہ آدمی دور جا سکے۔ اس کا مرکزی مضمون عصر کو جلد ادا کرنا ہے۔ یہ حدیث ہمیں نماز عصر کی اہمیت اور وقت کی پابندی کا صاف انداز دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج بلند ہوتا تھا۔
- نماز عصر کے بعد بھی دن کا اچھا حصہ باقی رہتا تھا۔
- عصر کی نماز میں وقت کی پابندی خاص طور پر نمایاں ہے۔
