صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۱ - عصر کے وقت کی پابندی
عصر کی نماز اور بنی عمرو بن عوف کی روایت
صحیح مسلم : ۱۴۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۱
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ " .
سیدنا انس روایت:
ہم عصر کی نماز پڑھ چکتے تھے۔ پھر آدمی بنی عمرو بن عوف کے محلہ جاتا تھا اور ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عصر کی نماز پڑھ چکتے تھے، پھر ایک آدمی بنی عمرو بن عوف کے محلے جاتا اور وہاں لوگوں کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔ یہ روایت بھی عصر کی نماز کے وقت کو سمجھانے والی ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایک جگہ عصر ادا ہو چکی ہوتی، پھر آدمی دوسری جگہ پہنچتا تو وہاں عصر جاری ہوتی۔ عصر کی نماز کا وقت اور اس کی ادائیگی کا انداز اس حدیث میں ایک روزمرہ مثال سے واضح ہوتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عصر کا معاملہ صحابہ کے ہاں خاص توجہ کے ساتھ ادا کیا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ عصر کی نماز کے وقت کا اہتمام کرتے تھے۔
- حدیث میں عصر کے وقت کو سفر یا محلے تک جانے کی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔
- نماز کے وقت کی پابندی عملی زندگی میں واضح نظر آتی تھی۔
