صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۰ - عصر کے بعد قبا تک جانا

عصر کی نماز کے بعد قبا پہنچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۰

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .

سیدنا انس روایت:

ہم نماز عصر پڑھ کر قبا کو جاتے تھے اور وہاں پہنچنے پر بھی آفتاب بلند رہتا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۰ کا خلاصہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بتاتے ہیں کہ وہ عصر کی نماز پڑھ کر قبا جاتے تھے، اور جب وہاں پہنچتے تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ یہ روایت عصر کی نماز کے وقت کو عملی انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس میں گھڑی یا منٹ کا ذکر نہیں، بلکہ ایک ایسا مشاہدہ بیان کیا گیا ہے جو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔ عصر کی نماز اتنی تاخیر سے نہیں پڑھی جاتی تھی کہ فوراً سورج ڈوبنے لگے، بلکہ نماز کے بعد قبا تک جانے کا وقت باقی رہتا تھا۔ عصر کی نماز کا وقت حدیث میں اس طرح بیان ہونا ہمیں نماز کو وقت پر ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عصر کے بعد قبا تک جانے پر بھی سورج بلند رہتا تھا۔
  • حدیث میں عصر کے وقت کو عملی مثال سے سمجھایا گیا ہے۔
  • نماز عصر کو وقت پر ادا کرنے کی اہمیت اس روایت سے ظاہر ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں