صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۳ - رسول اللہ والی عصر کی نماز
یہ وہ عصر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی جاتی تھی
صحیح مسلم : ۱۴۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۱۳
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ : " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا ، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : " الْعَصْرُ ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ " .
سیدنا ابوامامہ روایت:
ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان کو عصر کی نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے کہا: اے میرے چچا! یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے فرمایا: عصر کی اور یہ وہ نماز ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے (یعنی مسنون وقت یہی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر پڑھی، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہیں عصر کی نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کون سی نماز ہے؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ عصر ہے، اور یہی وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عصر کی نماز کا مسنون وقت ہے۔ یہاں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز سے جوڑا۔ اس سے نماز عصر کے وقت کی پابندی اور صحابہ کے عمل کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نماز کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو معیار بناتے تھے۔
- عصر کی نماز کے وقت کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے واضح کیا۔
- نماز کے بارے میں پوچھنا اور سیکھنا صحابہ کے طرز عمل میں شامل تھا۔
