سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۷ - کھجور کے تنے کا رونا اور معجزہ
درخت کا رونا اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت
سنن ابن ماجہ : ۱۴۱۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۱۷
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُومُ إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا ، قَالَ : فَحَنَّ الْجِذْعُ ، قَالَ جَابِرٌ : حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحَهُ ، فَسَكَنَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ کھجور کا تنا نبی صلى الله عليه وسلم کی جدائی میں رونے لگا۔ یہ آواز مسجد والوں نے بھی سنی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے آ کر اسے پرسکون کیا۔ بعض صحابہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔ اس سے نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت اور مخلوق سے محبت ظاہر ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی رحمت بے مثال ہے
- مخلوق بھی اللہ کے حکم سے احساس رکھتی ہے
- ایمان کو مضبوط کرنے والے واقعات ہیں
