سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۲۰ - شکر گزاری اور عبادت

شکر گزاری کی عملی مثال

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۴۲۰

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَلِّي حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں (پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۴۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی نبی صلى الله عليه وسلم کی عبادت اور شکر گزاری کا ذکر ہے۔ آپ سے کہا گیا کہ اللہ نے آپ کے گناہ معاف کر دیے ہیں، پھر بھی آپ عبادت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شکر عملی عبادت سے بھی ادا ہوتا ہے
  • نبی صلى الله عليه وسلم بہترین مثال ہیں
  • نعمتوں پر عاجزی اختیار کرنی چاہیے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں