سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۶ - قے اور روزے کا شرعی حکم
جان بوجھ کر اور غیر ارادی قے کا فرق
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَبُو الشَعْثَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خود بہ خود قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر روزے کی قضاء ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی کو خود بخود قے آ جائے تو اس کا روزہ برقرار رہتا ہے اور اسے قضا نہیں کرنی پڑتی۔ لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر قے کرے تو اس پر روزے کی قضا لازم ہوتی ہے۔ اس سے اسلام کا اصول واضح ہوتا ہے کہ نیت اور ارادہ عمل کے حکم کو بدل دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر ارادی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
- جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
- نیت کے مطابق حکم میں فرق آتا ہے
