سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۵ - روزے کی حالت میں قے کا حکم

قے آنے کی صورت میں روزے کا حکم

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۵

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ ابنا عبيد الطنافسي ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ ، قَالَ : " أَجَلْ وَلَكِنِّي قِئْتُ " .

فضالہ بن عبید انصاری روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ روزہ رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے روزے کا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں قے آنے کے باوجود روزہ جاری رکھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر قے خود بخود ہو جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی قضا لازم ہوتی ہے۔ یہ حکم روزے دار کے لیے آسانی کا باعث ہے تاکہ وہ غیر ارادی حالت میں پریشان نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خود بخود قے آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
  • غیر ارادی حالت میں روزہ برقرار رہتا ہے
  • اسلام میں آسانی کا اصول موجود ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں