سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۴ - غلطی سے روزہ افطار کرنے کا حکم
غلطی سے افطار اور بعد کی قضا
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ " ، قُلْتُ لِهِشَامٍ : أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ ، قَالَ : لَا بُدَّ مِنْ ذَلِكَ .
اسماء بنت ابی بکر روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں روزہ افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟، انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہوا کہ صحابہ نے بادل کی وجہ سے سمجھا کہ سورج غروب ہو گیا ہے اور انہوں نے روزہ افطار کر لیا، لیکن بعد میں سورج نکل آیا۔ اس سے یہ مسئلہ سمجھ آتا ہے کہ اگر غلطی سے روزہ افطار ہو جائے تو اس کی قضا کرنی ہوتی ہے۔ یہ معاملہ انسانی غلطی اور وقت کے اندازے کی وجہ سے پیش آ سکتا ہے، لیکن شریعت میں اس کی اصلاح قضا کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلطی سے افطار ہونے پر قضا ضروری ہو سکتی ہے
- وقت کے تعین میں انسان سے خطا ہو سکتی ہے
- شریعت میں غلطی پر نرمی بھی موجود ہے
