سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۳ - بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
بھول کر کھانے پر روزے کا حکم
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کر لے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی روزے دار بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ عمل اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں بھول چوک کو معاف کیا گیا ہے اور انسان کو اس پر پکڑا نہیں جاتا۔ روزہ صرف جان بوجھ کر توڑنے سے ٹوٹتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
- اللہ تعالیٰ بندے کی بھول کو معاف کرتا ہے
- روزہ جاری رکھنا ضروری ہے
