سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۲ - بلا عذر روزہ چھوڑنے کی سخت وعید
بغیر عذر روزہ چھوڑنے کی سنگینی
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اسے پورے سال کے روزے (بھی) کافی نہ ہوں گے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رمضان کا روزہ بغیر کسی شرعی رخصت کے چھوڑ دے، تو پورے سال کے روزے بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اس سے روزے کی اہمیت اور رمضان کی حرمت واضح ہوتی ہے۔ رمضان کا روزہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی خاص تعمیل ہے، اس لیے اسے بغیر عذر چھوڑنا بہت بڑی کمی سمجھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کا روزہ بغیر عذر چھوڑنا بہت سنگین عمل ہے
- روزے کی قضا اور مسلسل عبادت بھی مکمل تلافی نہیں بن سکتی
- رمضان کی حرمت کو سمجھنا ضروری ہے
