سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۱ - رمضان میں کفارہ اور توبہ کا حکم
رمضان میں غلطی اور کفارے کا شرعی طریقہ
سنن ابن ماجہ : ۱۶۷۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۷۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " ، قَالَ : لَا أَجِدُهَا ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " ، قَالَ : لَا أُطِيقُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " ، قَالَ : لَا أَجِدُ ، قَالَ : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، قَالَ : " فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایک غلام آزاد کرو“، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے لگاتار روزے رکھو“، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ“ اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ وہ بیٹھ گیا،اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آ گیا، اس ٹوکرے کو «عرق» کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جاؤ اسے صدقہ کر دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے رمضان میں اپنی بیوی سے تعلق قائم کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے کفارہ کے مختلف درجات بیان کیے: پہلے غلام آزاد کرنا، پھر دو ماہ مسلسل روزے رکھنا، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ آخر میں جب اس کی مالی حالت کمزور تھی تو اسے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں گناہ کے بعد توبہ اور کفارہ کا مکمل نظام موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان میں جان بوجھ کر روزہ توڑنے پر کفارہ لازم ہو سکتا ہے
- اسلام میں کفارے کے مختلف درجات رکھے گئے ہیں
- ضرورت مند کی حالت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے
