سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۰ - قرآن پڑھنے مگر دین سے نکلنے والے لوگ
خوارج کی حدیث: قرآن پڑھیں گے مگر دل میں نہ اترے گا
سنن ابن ماجہ : ۱۷۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي ، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوذر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں“ ۱؎۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت میں بعد میں آنے والے ایک گروہ کا ذکر فرمایا۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ قرآن پڑھیں گے، لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر فرمایا کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، اور پھر دین کی طرف واپس نہ لوٹیں گے۔ حدیث کے آخر میں ان کے لیے بہت سخت الفاظ آئے ہیں۔ اس متن کا اصل پیغام یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت صرف زبان کا عمل نہیں، بلکہ دین کی صحیح سمجھ اور اس پر قائم رہنا بھی ضروری ہے۔ خوارج کی حدیث، قرآن حلق سے نیچے نہ اترنا، اور دین سے خروج اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھنا دل اور عمل کی درستگی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- دین سے نکلنے والے گروہ کے بارے میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- ظاہری تلاوت کے باوجود غلط راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
