سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۴ - عید الفطر سے پہلے کھانا
عید الفطر سے پہلے کھجور کھانے کی سنت
سنن ابن ماجہ : ۱۷۵۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۵۴
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عید الفطر کے دن عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھجوریں تناول فرماتے تھے۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ رمضان کا روزہ مکمل ہو چکا ہے اور اب کھانے کی اجازت ہے۔ یہ سنت ہمیں سادگی اور شکر کا درس دیتی ہے۔ کھجور کھا کر عید گاہ جانا ایک خوبصورت اسلامی روایت ہے جو خوشی اور عبادت کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عید الفطر سے پہلے کھانا سنت ہے
- رمضان کے اختتام پر شکر ادا کرنا چاہیے
- اسلامی تہوار سادگی اور عبادت پر مبنی ہیں
