سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۳ - افطار کے وقت دعا کی قبولیت
افطار کے وقت دعا کی خاص قبولیت
سنن ابن ماجہ : ۱۷۵۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۵۳
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : إِذَا أَفْطَرَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ، أَنْ تَغْفِرَ لِي .
عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی“۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كل شيء أن تغفر لي» ”اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں افطار کے وقت دعا کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے تو اس وقت اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس لیے صحابہ کرام اس وقت خاص دعائیں کرتے تھے جیسے مغفرت کی دعا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ افطار کا وقت صرف کھانے کا نہیں بلکہ عبادت اور دعا کا بھی بہترین وقت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس وقت اللہ سے معافی اور رحمت طلب کرے اور اپنی زندگی کی بہتری کے لیے دعا کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے
- اس وقت مغفرت طلب کرنا افضل ہے
- روزہ عبادت کے ساتھ دعا کا بھی ذریعہ ہے
