سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۲ - روزہ دار کی دعا کی قبولیت

روزہ دار کی دعا قبول ہونے کی فضیلت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۵۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعْدَانَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ يَرْفَعُهَا اللَّهُ دُونَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَيَقُولُ : بِعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو“ ۱؎۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ روزہ دار کی دعا اللہ کے ہاں خاص مقام رکھتی ہے اور رد نہیں کی جاتی۔ خاص طور پر روزے کی حالت میں، افطار سے پہلے انسان کی دعا بہت قیمتی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ عادل امام اور مظلوم کی دعا بھی قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ روزہ صرف بھوک کا نام نہیں بلکہ دعا کی قبولیت کا ایک بہترین وقت ہے۔ انسان کو اس وقت اللہ سے معافی، ہدایت اور رحمت طلب کرنی چاہیے تاکہ اس کی آخرت بہتر ہو سکے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ دار کی دعا قبولیت کے قریب ہوتی ہے
  • افطار سے پہلے دعا کرنا افضل ہے
  • اللہ مظلوم اور عادل امام کی دعا بھی سنتا ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں