سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۰ - دعوت پر روزے کی حالت
دعوت کے وقت روزہ دار کا ادب
سنن ابن ماجہ : ۱۷۵۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو کھانا کھانے کے لیے بلایا جائے، اور وہ روزے سے ہو، تو کہے کہ میں روزے سے ہوں“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جب کسی شخص کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے صاف اور سادہ الفاظ میں کہنا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ وہ نہ تو لوگوں کو الجھن میں ڈالے اور نہ ہی تکبر کا اظہار کرے۔ یہ عمل معاشرتی آداب اور شائستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ روزہ دار کو چاہیے کہ وہ اپنے روزے کو خاموشی اور عاجزی کے ساتھ ظاہر کرے تاکہ دوسروں کے دل میں بھی عبادت کا احترام پیدا ہو۔ یہ تعلیم ہمیں حسن اخلاق اور سادگی سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت کے وقت روزے کی اطلاع دینا ادب ہے
- روزہ دار کو عاجزی اختیار کرنی چاہیے
- معاشرتی تعلقات میں شائستگی ضروری ہے
