سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴۹ - روزے دار کی برکت اور تسبیح

روزہ دار کی روحانی برکت اور تسبیح

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۴۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ : " الْغَدَاءُ يَا بِلَالُ " ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَأْكُلُ أَرْزَاقَنَا ، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ ، أَشَعَرْتَ يَا بِلَالُ أَنَّ الصَّائِمَ تُسَبِّحُ عِظَامُهُ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ " .

بریدہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے بلال! دوپہر کا کھانا حاضر ہے، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تو اپنی روزی کھا رہے ہیں، اور بلال کی بچی ہوئی روزی جنت میں ہے، تم کو معلوم ہے، اے بلال! روزہ دار کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں، اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں، جب تک اس کے سامنے کھانا کھایا جاتا ہے“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں روزے کی عظمت اور اس کی روحانی برکتوں کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ روزہ دار کی حالت میں اس کے جسم کے اعضاء بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ جب اس کے سامنے کھانا رکھا جائے اور وہ صبر کرے تو یہ عمل اس کے اجر کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ روزہ صرف جسمانی عبادت نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ اس میں بندے کے لیے جنت کی امید اور اللہ کی رحمت شامل ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ روحانی طور پر انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے
  • صبر کرنے والے روزہ دار کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں
  • روزہ دار کا اجر اللہ کے ہاں بہت بلند ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں