سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴۸ - روزے دار پر فرشتوں کی دعا

روزے دار کے سامنے کھانا اور فرشتوں کی دعا

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۴۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَهْلٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : لَيْلَى ، عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا ، فَكَانَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ صَائِمًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ الطَّعَامُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ " .

ام عمارہ بنت کعب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو ہم نے آپ کو کھانا پیش کیا، آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے سامنے جب کھانا کھایا جائے (اور وہ صبر کرے) تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی روزے سے ہو اور اس کے سامنے دوسرے لوگ کھانا کھا رہے ہوں، اور وہ اپنے روزے کی حالت پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ یہ بات ہمیں روزے کی حالت میں صبر اور برداشت سکھاتی ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کا بھی نام ہے۔ اس موقع پر انسان کو دل تنگ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کی رضا کو یاد رکھنا چاہیے۔ یہ عمل بندے کے ایمان اور تقویٰ کو مزید مضبوط کرتا ہے اور معاشرتی ماحول میں بھی اچھا اخلاق ظاہر کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزے کی حالت میں صبر کرنے پر اللہ کی خاص رحمت حاصل ہوتی ہے
  • دوسروں کے سامنے کھانے کے باوجود اپنے روزے کو قائم رکھنا فضیلت رکھتا ہے
  • فرشتے روزہ دار کے لیے دعا اور استغفار کرتے ہیں

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں