سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۶ - خوارج کے بارے میں ابو امامہؓ کی روایت
خوارج کی سخت مذمت: ابو امامہؓ کی سنی ہوئی حدیث
سنن ابن ماجہ : ۱۷۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۶
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَقُولُ : " شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا " ، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ : هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ ، قَالَ : بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوامامہ روایت:
یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے“۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں سخت بات بیان کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ خوارج آسمان کے نیچے قتل کیے گئے لوگوں میں بدترین مقتول ہیں، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جنہیں جہنم کے کتوں نے قتل کیا۔ پھر بتایا کہ یہ لوگ مسلمان تھے، پھر کافر ہو گئے۔ جب ابو غالب نے پوچھا کہ کیا یہ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے صاف کہا کہ نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اس حدیث میں خوارج کی مذمت، نبی صلى الله عليه وسلم سے روایت کی تصدیق، اور دینی بات میں سند کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوارج کے بارے میں حدیث میں بہت سخت الفاظ آئے ہیں۔
- ابو امامہؓ نے اپنی بات کو نبی صلى الله عليه وسلم سے سنا ہوا بتایا۔
- دینی معاملے میں بات کی نسبت واضح کرنا ضروری ہے۔
