سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵ - خوارج کی نشانی سر منڈانا

خوارج کی نشانی: سر منڈانا اور قرآن کا حلق سے نیچے نہ اترنا

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۷۵

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَوْ حُلْقُومَهُمْ ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ (خلافت راشدہ کے اخیر) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کی نشانی سر منڈانا ہے، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر زمانہ یا اس امت میں ایک ایسے گروہ کا ذکر فرمایا جو قرآن پڑھے گا، مگر وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر ان کی ایک نشانی سر منڈانا بیان کی گئی۔ حدیث میں ان کے بارے میں سخت حکم بھی آیا ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع خوارج کی پہچان اور ان کے خطرناک دینی رویے سے خبردار کرنا ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کے باوجود اگر دین کی صحیح سمجھ، ادب اور درست راستہ نہ ہو تو معاملہ بہت سخت ہو سکتا ہے۔ اس حدیث کو عام لوگوں پر جلدی چسپاں کرنے کے بجائے اس کے متن کو سمجھنا اور دین میں احتیاط رکھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خوارج کی ایک نشانی سر منڈانا بیان ہوئی ہے۔
  • قرآن پڑھنے کے باوجود غلط راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
  • دینی معاملات میں جلد بازی اور کم فہمی سے بچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں